Skip to main content

QR Code کوڈ کیا ؟؟

کیو آر کوڈ کیا ہے                          ن     

 


                      

آپ سب نے کیو آر کوڈ Quick Response Code کی اصطلاح ضرور سنی ہوگی۔  کیو آر کوڈ دراصل روایتی بار کوڈ کی ایک قسم ہے جسکی ابتداء جاپان سے ہوئی۔ کیو آر کوڈ بار کوڈ کے مقابلے میں سیدھی لائینوں کی بجائے کالے چوکور خانوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ مختلف سائز کے یہ چوکور خانے مل کر ایک بڑا چوکور خانہ بناتے ہیں جسکا بیگ گراؤنڈ سفید ہوتا ہے۔


ان چوکور خانوں میں دراصل مختلف قسم کی معلومات سٹور ہوتی ہیں جنہیں عام طور پر سمارٹ فون کیمرہ کی مدد سے سکین کیا جاتا ہے اور  سافٹوئیر اسے پڑھ کر آپ کو وہ معلومات سکرین پر انگریزی یا کسی دوسری زبان میں دکھاتا ہے۔


1994 میں ٹویوٹا کی ایک ذیلی کمپنی نے گاڑیوں کی تیاری کے دوران پرزہ جات وغیرہ کے بارے میں بہتر معلومات رکھنے کے لیے یہ نظام متعارف کروایا۔ آج کیو آر کوڈز کا استعمال شاپنگ، انٹرنیٹ اور مختلف اقسام کی مصنوعات کی ٹریکنگ کے لیے کیا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ کیو آر کوڈز کو پیسے کی منتقلی اور ویب سائیٹس پر لاگ ان کرنے کے لیے بھی استمعال کیا جاتا ہے۔


کمپنیاں اور پروفیشنلز اپنے وزٹنگ کارڈز پر کیوآرکوڈز بھی چھپواتے ہیں جنہیں سکین کر کے آپ یوآرایل لکھے بغیر ہی انکی ویب سائیٹ اور دیگر معلومات ملاحظہ کر لیتے ہیں۔ مارکیٹنگ کمپنیاں مصنوعات کی تشہیر یا خصوصی ڈسکاؤنٹ فراہم کرنے کے لیے بھی کیوآرکوڈ کو پبلک مقامات اور اخبارات میں شائع کرتے ہیں، جس سے صارفین کی دلچسپی میں اضافہ ہوتاہے۔ 2011 میں نیدرلینڈ کے رائل ڈچ منٹ نے کیو آر کوڈ کے حامل سکے بھی جاری کیے۔ کچھ ممالک میں اب قبر کے کتبوں پر مرنے والی کی معلومات کیو آر کوڈ کی شکل میں چسپاں کی جاتی ہیں۔


روایتی بار کوڈ کے مقابلے میں کیوآر کوڈ کو پڑھنے کے لیے کیمرہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے سمارٹ فونز کا استعمال عام ہے جس میں لگا پراسیسر کیمرہ سے لی گئی تصویر کا تجزیہ کرتا ہے اور طے شدہ سٹینڈرز کی مدد سے کیوآرکوڈ سے معلومات حاصل کرتا ہے۔


کیوآرکوڈ پڑھنے کے لیے اینڈرائیڈ، آئی او ایس، ونڈوز فون، بلیک بیری اور دیگر آپریٹنگ سسٹمز کے لیے بہت  سی ایپلی کیشنز دستیاب ہیں


کیو آر کوڈ کا استعمال مفت ہے اور اسکے لیے کسی قسم کے لائسنس کی ضرورت نہیں یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں کیو آر کوڈ کے ساتھ نت نئے تجربے کیے جارہے ہیں۔ تاہم غیر ضروری طور پر کسی بھی کیو آر کوڈ کو سکین کرنے سے گریز کیجئے، کیونکہ ہیکرز کیو آر کوڈ کے ذریعے آپکے کمپیوٹر یا موبائل فون میں موجود خفیہ معلومات تک مکمل رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور آپکے فون میں موجود کیمرہ کو خفیہ نگرانی کے استعمال یا پھر آپکے بیلنس کے ضیائع کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

The Global Economic Crisis

  UoUyeu_h0eYHDB6zBk9Q0sWyKgLVDXtO2vzCpotw19RdR7xMwQY9AGH5PAHp5zeZ28ZFjy18PQJAL2zUHlCKPmms3RphPaaDdh3Hxvw/s420/financial_crisis1.jpg" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"> The Global Economic Crisis: What You Need to Know: The last few years have not been kind to the global economy. The European debt crisis, followed by political upheaval in the Middle East and, most recently, China’s slow down have left consumers around the world feeling uncertain about their own economic prospects and have made it more difficult for businesses to invest in the future. Learn more about the causes of this ongoing economic crisis and what you can do to better protect yourself from its effects. What caused it? The root of most financial problems is a result of excessive spending. Although it’s important to spend money on things that matter, such as food and shelter, it’s just as important not to overspend on luxuries. Excessive spending causes interest rates and inflation—and ...

انٹارکٹیکا[ANTARCTICA]

 انٹارکٹکا: انٹارکٹیکا دنیا کا انتہائی جنوبی براعظم ہے، جہاں قطب جنوبی واقع ہے۔ جغرافیائی اصطلاح میں اسے منطقہ باردہ جنوبی (South friged zone) بھی کہتے ہیں۔ یہ دنیا کا سرد ترین،  خشک ترین اور ہوا دار ترین براعظم ہے، 🥶   جبکہ اس کی اوسط بلندی بھی تمام براعظموں سے زیادہ ہے۔ 14٫425 ملین مربع کلومیٹر کے ساتھ انٹارکٹکا ایشیا، افریقا، شمالی امریکا اور جنوبی امریکاکے بعد دنیا کا پانچواں بڑا براعظم ہے۔ انٹارکٹکا 98 فیصد برف سے ڈھکا ہوا ہے جس کے باعث وہاں کوئی باقاعدہ و مستقل انسانی بستی نہیں۔ صرف سائنسی مقاصد کے لیے وہاں مختلف ممالک کے سائنس دان قیام پزیر ہیں۔۔۔۔😮 وہاں تقریبا 2 ملین سالوں سے بارش نہیں ہوئی ہے ، اس کے باوجود دنیا کے میٹھے پانی کے 80 فیصد ذخائر وہاں موجود ہیں ، اگر یہ سب پگھل جاتے تو سمندری سطح کو ساٹھ میٹر (200 فٹ) تک بڑھا سکتے ہیں۔😱 انٹارکٹکا یونانی لفظ اینٹارکٹی کوس سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے آرکٹک کے مدمقابل۔ اس براعظم کو پہلی بار روسی جہاز راں میخائل لیزاریف اور فابیان گوٹلیب وون بیلنگشاسن نے 1820ء میں دیکھا۔🙂  مختلف تحقیقی کام سر انجام دینے کے لیے دنی...

چمگادڑیں کیسے دیکھتی ہیں

 چمگادڑیں کیسے دیکھتی ہیں         ر)                                                 چمگادڑیں کم و بیش دنیا کے تمام خطوں میں پائی جاتی ہیں۔یاد رہے کہ چمگادڑوں کی تمام اقسام اندھی نہیں ہوتیں بلکہ ان میں سے بعض بالکل انسانوں کی طرح دیکھ سکتی ہیں۔لیکن رات کے وقت وہ بھی ایکو لوکیشن Echolocation کا استعمال کرکے اڑتی اور شکار کرتی ہیں۔چمگادڑیں اپنی آواز کی گونج یعنی Echo کو دیکھ سکتی ہیں۔یہ نہایت پیچیدہ ملٹری گریڈ مشینری جیسا نظام ہے جو قدرت نے اس چھوٹی سی مخلوق کے سر میں نصب کر رکھا ہے۔ اسے ہم بائیولوجیکل سونار سسٹم (آواز کی لہروں کی مدد سے جاسوسی کا نظام جو زیر زمین، زیر آب اور زمین کی سطح پر کام کرتا ہے) کہہ سکتے ہیں۔  کئی جانور ایسی آوازیں نکالتے ہیں جن کی گونج بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ان کا مقصد دوسرے جانوروں کو متوجہ کرنا ہوتا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ آواز مختلف سطح سے ٹکرانے کے بعد تبدیل شدہ حالت میں ہمیں واپس سنائی دیتی ہے۔کوئی چیز جتنی زی...